ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں کانگریس حکومت کے وزیرڈی کے شیو کمارکے گھر پر محکمہ انکم ٹیکس کا چھاپہ ؛ رقم ضبط کرنے کی خبر کی تردید

کرناٹک میں کانگریس حکومت کے وزیرڈی کے شیو کمارکے گھر پر محکمہ انکم ٹیکس کا چھاپہ ؛ رقم ضبط کرنے کی خبر کی تردید

Wed, 02 Aug 2017 19:09:37    S.O. News Service

بیدر/ بنگلور۔2؍اگست۔(محمدامین نواز / ایس او نیوز)  کرناٹک کے وزیر توانائی مسٹر ڈی کے شیو کمار کے مختلف ٹھکانوں  پر آج بدھ صبح محکمہ انکم ٹیکس نے چھاپہ مارا اور کئی کروڑ کی رقم برآمد کرنے کی اطلاع موصول ہوئی، مگر بعد میں  محکمہ انکم ٹیکس نے ان باتوں کی تردید کی اور کہا کہ  رقم برآمد کرنے کی اطلاع میں صداقت نہیں ہے۔  ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس نے ڈی کے شیو کمارکے جملہ 39ٹھکانوں پر چھاپہ مارا ، وہیں محکمہ کے افسران ڈی کے شیو کمار کے بنگلور میں واقع The Golf Village Eagleton ریسارٹ پر بھی چھاپہ مار کاروائی کی ‘جہاں گجرات کانگریس کے ارکانِ اسمبلی ٹہرے ہوئے ہیں ۔اگرچہ بعد میں ریسارٹ پر چھاپہ کی خبر وں کی تردید کی گئی ہے مگرمعلومات کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس کے افسران ریسارٹ پر موجود ہونے کی بھی اطلاع ملی ہے اور بتایا گیا ہے کہ  وہاں پر کوئی سرچ آپریشن نہیں کیاگیا‘ اُدھر محکمہ نے ان کی دہلی کی رہائش گاہ پربھی  چھاپہ مارنے کی اطلاع ملی ہے  جہاں ابتدائی خبروں میں الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے پانچکروڑ روپیے برآمد کئے جانے کی خبر دی گئی تھی، مگر بعد میں محکمہ ٹیکس کے آفسران نے اس بات کی تردید کی اور کہا کہ کوئی رقم ضبط نہیں کی گئی ہے۔

اُدھر مسٹرشیو کمار کے سداشیونگر کے کنک پور علاقے میں بھی واقع  رہائش گاہ پر  انکم ٹیکس کی ٹیم نے چھاپہ مارا ہے۔سی آر پی ایف کے جوان بھی اس چھاپہ کے دوران موجود تھے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ڈی کے شیو کمار کو ہی گجرات کانگریس کے ممبرانِ اسمبلی کوٹہرانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ان ریسارٹ پر ہی گجرات کانگریس کے42ارکانِ اسمبلی ایک ہفتے سے رکے ہوئے ہیں۔گذشتہ ہفتے کانگریس نے اپنے42 کارکنوں کو گجرات سے بنگلور بھیج دیا تھا۔

کانگریس کا الزام ہے کہ آئندہ راجیہ سبھا انتخابات اور اس سال کے آخر میں ہونے والے گجرات اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر بی جے پی ان ارکانِ اسمبلی کو توڑنے کی مسلسل کوشش کررہی ہے۔پارٹی کا الزام ہے کہ ان کے اراکین اسمبلی کو آمادہ کرنے کیلئے15-15کروڑ روپیے آفر دئیے گئے تھے۔مسٹر ڈی کے شیو کمار کرناٹک میں کانگریس حکومت کے چیف منسٹر سدارامیا کی کابینہ میں وزیرِ توانائی کے عہدہ پر ہیں۔ کانگریس لیڈر احمد پٹیل نے کہا کہ بی جے پی محض ایک راجیہ سبھا نشست جیتنے کیلئے  مشقت میں لگی ہوئی ہے۔ کرناٹک کے وزیر برائے توانائی ڈی کے شیو کمار نے اسمبلی انتخابات کے حلف نامہ میں 250کروڑ روپیے کی جائیداد بتائی ہے۔ان کے بھائی ڈی سریش بنگلور دیہی نشست سے ایم پی ہیں ‘مذکورہ بالا ریسارٹ ڈی سریش کے پارلیمانی حلقہ میں آتا ہے۔ ڈی کے شیو کمار کو کرناٹک کے چیف منسٹر کی دوڑ میں بھی مانا جارہا ہے۔اس درمیان یہ سوال اُٹھ رہے  ہیں کہ گجرات سیلاب سے بے حال ہے تو کانگریس کے اراکینِ اسمبلی اپنے علاقوں سے دور اس ریسارٹ میں کیوں ہیں؟

اس پر کانگریس اراکین اسمبلی کی دلیل ہے کہ 24سے26؍جولائی تک وہ اپنے علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہی کام کررہے تھے‘ لیکن فی الحال سیاسی حالات کے آگے مجبور ہیں۔بنگلور کے ریسارٹ میں گجرات کے44اراکین اسمبلی موجود ہیں ۔کانگریس کی دلیل ہے کہ راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس لیڈر احمد پٹیل کو شکست دینے کیلئے بی جے پی ان اراکین اسمبلی کو توڑنے کی پینترے بازی میں ہے‘یہی وجہ ہے کہ انھیں احمد آباد سے دور بنگلور لایا گیا ہے۔اتوار کو کانگریس لیڈر شکتی سنگھ واگھیلا ان اراکین اسمبلی کو میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس دوران سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعدگجرات کے چیف منسٹر وجئے روپانی نے اس مسئلہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کانگریس نے بنگلور لے گئے اراکین اسمبلی کے موبائیل فون تک جمع کرالئے ہیں۔ مگربنگلور شکتی سنگھ واگھیلا نے موبائیل جمع کرانے جیسے سارے الزامات سے انکار کیا۔

اس دوران کانگریس سے الگ ہونے والے شنکر سنگھ واگھیلا نے بھی سیلاب کے حالات میں کانگریس اراکین اسمبلی کے بنگلورمیں ہونے پر سوال اُٹھائے ہیں۔در حقیقت گجرات میں کانگریس کے75اراکین اسمبلی ہیں‘ جن میں سے6نے استعفی دے دیا ہے اوراستعفیٰ دینے والوں میں3بی جے پی میں شامل بھی ہوگئے  ہیں‘7دیگر اراکین اسمبلی ہیں جو بنگلور نہیں گئے ہیں‘لیکن انھوں نے کانگریس بھی نہیں چھوڑی ہے۔ ان اراکینِ اسمبلی کو لے کر قیاس آرائیوں کا دورجاری ہے۔احمد پٹیل کو راجیہ سبھا الیکشن جیتنے کیلئے45ووٹوں کی ضرورت ہے اور ان کے پاس فی الحال44 ووٹ ہیں‘لیکن انتخابات تک کہیں یہ ووٹ کھسک نہ جائیں اس کی فکر نے کانگریس کی دن و رات کی نیند خراب کررکھی ہے۔


Share: